ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سینئر رکن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے شام پرحملہ کیا تو اس کا جواب اسے تل ابیب پرمیزائل حملوں کی صورت میں ملے گا۔پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان حسین نقوی حسینی نے کہاکہ شام کے پاس کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھر پور توانائياں ہیں ۔ادھر اس کمیشن کے ایک اور رکن اسماعیل کوثری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شام پر امریکہ کے حملوں کی صورت میں صیہونی حکومت اور شام میں دہشتگردوں کی مدد کرنے والے ممالک وقت سے پہلے ہی تباہی کی کھائي میں گرجائيں گے۔ اسماعیل کوثری نے کہا کہ امریکہ جنگ شروع تو کرسکتا ہے لیکن اسے ختم کرنا اس کے بس کی بات نہ ہوگي۔واضح رہے ساری دنیا کی جانب سے پرامن حل پر تاکید کے باوجود امریکہ اور اس کے بعض عرب پٹھو ممالک شام پرحملوں کی بات کررہے ہیں اور امریکہ نے شام کے اطراف فوجیں اور بحری بیڑے بھی لگادئیے ہیں۔ ادھر برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے امریکہ کے ساتھ شام کے خلاف حملوں میں شریک ہونے کی تجویز کو ٹھکرائے جانے کےبعد برطانیہ کے وزیر جنگ نے کہا ہے کہ برطانیہ شام کے خلاف حملوں میں شریک نہیں ہوگا۔ درایں اثنا جرمنی نے بھی شام کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی ذمہ داری قراردیتے ہوئے امریکہ کےجارحانہ عزائم پر روک لگانےکی کوشش کی ہے۔ واضح رہے امریکی انٹلجنس ایجنیسوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسا کوئي ثبوت نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ شام کی فوج نے کیمیاوی حملوں کی اجازت دی ہے۔ قابل ذکر ہے برطانوی پارلیمنٹ کے فیصلے سے پہلے وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ اکیلے شام پر حملہ کرنے کےلئے تیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
29 اگست 2013 - 19:30
News ID: 457431
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سینئر رکن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے شام پرحملہ کیا تو اس کا جواب اسے تل ابیب پرمیزائل حملوں کی صورت میں ملے گا۔